پاکستان کا حلال میٹ ایکسپورٹ پلان تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا،جام کمال خان

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت پاکستان کے جامع گوشت ایکسپورٹ پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان، وفاقی وزیر برائے قومی خوراک تحفظ رانا تنویر حسین اور وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کی۔

اجلاس میں وزارتِ تجارت، وزارتِ قومی خوراک تحفظ، نجی و سرکاری اسٹیک ہولڈرز اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ کمیٹی نے ملائیشیا کو گوشت برآمد کرنے کا حتمی بزنس پلان پیش کیا، جو پاکستان کی بین الاقوامی حلال گوشت مارکیٹ میں توسیع کی جانب اہم قدم ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ محنت سے ایک مؤثر ایکسپورٹ فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ جام کمال خان نے کہا کہ یہ پیکج تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاقِ رائے کا نتیجہ ہے۔

وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق اگلے تین سے پانچ سالوں میں ملائیشیا کو گوشت برآمدات کا ہدف 200 ملین ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس وقت پاکستان کی ملائیشیا کو بھینس کے گوشت کی برآمدات محض 38 ہزار ڈالر ہیں۔

اجلاس میں برآمدات میں رکاوٹ بننے والے چیلنجز—فٹ اینڈ ماؤتھ بیماری، پراسیسنگ مسائل اور لاجسٹک مشکلات—کی نشاندہی بھی کی گئی۔

ہارون اختر خان نے مزید اعلان کیا کہ حلال میٹ سیکٹر کو انڈسٹری اسٹیٹس دیا جائے گا، جس سے برآمدات اور ملکی معیشت دونوں مضبوط ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹائم لائنز کے ساتھ عملی بزنس پلان تیار کرلیا گیا ہے۔

جام کمال خان نے مالی معاونت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برآمداتی لاگت کم کرنے کے لیے بینکنگ سیکٹر، صوبائی و وفاقی حکومتیں اور اسٹیٹ بینک اہم کردار ادا کریں گے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بتایا کہ ملائیشین معیار کے مطابق جدید سلاٹر ہاؤسز قائم کیے جائیں گے، جس سے برآمدی صلاحیت بڑھے گی۔

اجلاس کے اختتام پر ہارون اختر خان نے کہا کہ دی گئی مراعات پاکستانی حلال بیف کو عالمی مارکیٹ تک کامیابی سے پہنچانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

Author

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں…
Leave A Reply

Your email address will not be published.