30 سالہ تحقیق! درمیانی عمر میں یہ کھائیں، بڑھاپا بیماریوں سے محفوظ بنائیں
عمر بڑھنے کے ساتھ صحت مند رہنے کے لیے درمیانی عمر میں متوازن خوراک کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق، ’ہارورڈ ڈائٹ‘ اس حوالے سے بہترین قرار دی گئی ہے۔نیچر میڈیسن جریدے میں شائع ہونے والی ایک طویل مدتی تحقیق میں ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد مرد و خواتین کی خوراک اور صحت کا 30 سالہ تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے درمیانی عمر میں متوازن اور صحت بخش غذا اپنائی، ان کی 70 کی دہائی میں اچھی صحت کے امکانات 86 فیصد زیادہ تھے، جبکہ 75 سال کی عمر میں صحت مند رہنے کے امکانات 2.2 گنا زیادہ پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق، ’ہارورڈ ڈائٹ‘ میں پھل، سبزیاں، مکمل اناج، گری دار میوے، پھلیاں اور صحت مند چکنائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، سرخ اور پراسیس شدہ گوشت، میٹھے مشروبات، زیادہ سوڈیم اور غیر صحت بخش اناج کے منفی اثرات دیکھنے میں آئے۔کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ماہر مارٹا گوش فیری کے مطابق، “یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ متوازن اور سبزیوں پر مبنی خوراک کے ساتھ گوشت کا متوازن استعمال صحت مند بڑھاپے کی ضمانت بن سکتا ہے۔”ماہرین کا کہنا ہے کہ 2002 میں امریکی محکمہ زراعت نے ’الٹرنیٹ ہیلتھی ایٹنگ انڈیکس‘ (AHEI) کو صحت مند خوراک کے لیے ایک معیار کے طور پر پیش کیا تھا، اور اب یہ تحقیق اس کی اہمیت کو مزید ثابت کرتی ہے۔اگر آپ بڑھاپے میں بھی چاق و چوبند رہنا چاہتے ہیں، تو اپنی خوراک پر نظرثانی کریں اور ہارورڈ ڈائٹ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں