بلوچوں پر شیلنگ، خواتین کی گرفتار، دھرنے پر حملے، کیا یہ ریاستی جبر کی انتہا نہیں؟اختر مینگل

بلوچوں پر شیلنگ، خواتین کی گرفتار، دھرنے پر حملے، کیا یہ ریاستی جبر کی انتہا نہیں؟اختر مینگل

بلوچوں پر شیلنگ، خواتین کی گرفتار، دھرنے پر حملے، کیا یہ ریاستی جبر کی انتہا نہیں؟اختر مینگل

بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے میڈیا کو ہمارے پاس آنے نہیں دیا گیا ۔ہمارا جلسہ شروع تھا کہ ایک مشکوک شخص کو ہمارے کارکنوں نے روکنے کی کوشش کی مگر پہلے اس نے مزاحمت کی پھر بھاگنے کی کوشش کی تھوڑی دور جاکر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ نہیں معلوم کہ حادثاتی طور پر اسکے ہاتھ ٹریگر پر پڑے یا پھر اس نے خود کو اڑا دیا ۔ سرکار ہمیں خوفزدہ کرنیکی کوشش کر رہی ہے جو اس کی بھول ہے ہم واپس جانے لئے یہاں نہیں آئے ۔

ان خیالات کا اظہار وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہاں پولیس اور لیویز کھڑی ہے ساتھ ہی ایف سے کے چیک پوسٹ ہیں جو تیل کی گاڑیوں سے بھتہ تو لیتے ہیں مگر سیکورٹی پر انکی توجہ نہیں ۔ کیا یہ صرف بھتہ لینے کے لئے کھڑے ہیں ۔ کیا سیکورٹی انکی زمہداری نہیں ۔حکومت نے ہمیں یہاں روکا ہے ہماری سیکیورٹی کی زمہداری انکی بنتی ہے مگر حیرت ہے خودکش دھماکے کو دو گھنٹے گزرنے کے باوجود ہم سے نہ انتظامیہ نے رابطہ کیا ہے نہ ہی حکومت نے کسی نے نہیں پوچھا کہ دھماکے کے بعد ہماری اور یہاں کی کیا صورتحال ہے ۔نہ کوئی ایمبولینس بیجھا گیا نہ یہاں آکر کسی نے دیکھا کہ کتنے لوگ اس دھماکے میں متاثر ہوئے ۔ہم تو درکنار خود کش حملہ اوور کے ٹکڑے تک نہیں اٹھائے گئے نہ یہ دیکھا گیا حملہ اوور کون تھا نہ ہی اسکے فنگر پرنٹس لئے گئے ۔ اس کو میں غفلت نہیں سمجھونگا یہ انکا دانستہ عمل ہے ۔

انہون نے کہا کہ اگر دیکھا جائے انکے عقوبت خانے بلوچ سیاسی ورکروں سے بھرے پڑے ہیں یہ انکی فطرت ہے اور ہمیں اسکی عادت ہوگئ ہے ۔ لیکن مہارنگ بلوچ سمی دین محمد ، بیبو بلوچ کو گرفتار کیا گیا گزشتہ روز حب سے بھی دو خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے ۔خواتین کی گرفتاری ہماری ریڈ لائن ہے ۔ سردار اختر مینگل نے کہا کہ گرفتار خواتین کو رہا کردیں تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں کہ میدانوں میں عید منائیں ۔

کوئٹہ میں جو ہسپتال میں لاشیں لائی گئی تھیں وہ لاپتہ افراد کے ہوں یا بولان میں مارے جانیوالے افراد کی ہوں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ لواحقین آکر انکی شناخت کریں یقینا وہ کسی کے رشتہ دار تو ہونگے ۔ پھر رات کی تاریکی میں کچھ کو کاسی قبرستان میں دفنا یا گیا جب لواحقین انکی شناخت کے لئے ہسپتال پہنچے تو ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اگلے روز جب اس کیخلاف احتجاج کیا گیا تو ان پر شیلنگ کی گئی فائرنگ کی گئی جس میں دو نوجوان شہید ہوگئے ۔

الٹا بی وائی سی قیادت پر ایف آئی آر کاٹی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کی گرفتار کرکے ریڈ لائن کو کراس کیا گیا ۔ خواتین ہماری عزت ہیں ہماری غیرت ہیں انکی رہائی کے لئے ہم نے لانگ مارچ کی ہے وڈھ سے نکلے تو ہماری راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی یہاں آکر راستے بند کر دئیے گئے لک پاس کی دوسری طرف ہمارے دوستوں پر شیلنگ کی گئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہم نے فیصلہ کیا کہ جب وہ ہمیں کوئٹہ جانے نہیں دے رہے تو ہم ہیاں ہی دھرنہ دینگے ۔۔۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں