پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدہ: عوام کو کیا ملے گا؟

پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدہ: عوام کو کیا ملے گا؟

پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدہ: عوام کو کیا ملے گا؟

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت ملک کو 1 ارب ڈالر کی قسط ادا کی جائے گی، لیکن بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تاجر برادری کو یقین دلایا تھا کہ 23 مارچ کو بجلی کی قیمت میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ کمی کی خوشخبری سنائی جائے گی، لیکن ماہرین کے مطابق ابھی تک اس کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔ماہر معاشیات احمد چنائے کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کا مسئلہ جوں کا توں ہے، کیپسٹی چارجز میں کوئی کمی نہیں کی گئی، اور بجلی کے بلوں میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔

دوسری جانب، ماہر اقتصادیات شہباز رانا کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی کے نرخ میں صرف 1 روپیہ فی یونٹ کمی کی بات ہوئی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیراعظم کوئی ریلیف پیکج دینا چاہتے ہیں، تو اس پر آئی ایم ایف ابھی تک تعاون کے لیے تیار نہیں۔

 پاکستان کو ایک ارب ڈالر قرض کی منظوری آئی ایم ایف بورڈ سے ملے گی۔ موسمیاتی تبدیلی کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ پر بھی معاہدہ ہو چکا ہے۔ معاشی اصلاحات میں پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھائی، اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

اگرچہ حکومت آئی ایم ایف معاہدے کو معاشی استحکام کی جانب قدم قرار دے رہی ہے، لیکن عوام کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا امکان فی الحال کم نظر آ رہا ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت جلد کوئی فیصلہ نہ کرے، تو معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں