بلوچ عوام سڑکوں پر، ہماری مائیں بہنیں لاوارث نہیں سردار اختر مینگل کا حکومت کو دوٹوک پیغام
بلوچستان نیشنل پارٹی کا قافلہ افطاری کے وقت قلات پہنچ گیا سردار اختر جان مینگل کا دھرنے کے شرکا سے خطاب، مارنگ بلوچ سمیت گرفتار خواتین کی رہائی تک کوئٹہ میں دھرنا دینگے، تفصیلات کے مطابق اہتمام و سابق وزیر اعلی بلوچستان بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی وائی سی کے آرگنائزر ماہرنگ بلوچ بیبو بلوچ بیبرگ بلوچ سمعی دین بلوچ کی گرفتاری کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ لانگ مارچ کے شرکا مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے قافلہ قلات پہنچ گیا جہاں کوئٹہ کراچی شاہراہ مغل چوک کے مقام پر بی این پی کے مرکزی نائب صدر پرنس آغا موسی جان احمد زئی بلوچ ضلعی صدر میر قادر بخش مینگل احمد نواز بلوچ میر منیر شاہوانی سمیت دیگر ہزاروں کارکنان و عمائدین نے بڑی تعداد میں قافلے کا بھر پور استقبال کیا اس موقع پر سردار اختر جان مینگل ایڈوکیٹ ساجد ترین ثنا بلوچ میر قادر بخش مینگل و دیگر نے شرکا سے خطاب کیا
سردار اختر جان مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہ مقدس مہینے و لیلتہ القدر کی کے بابرکت دن میں وہ کونسی مجبوریاں ہے جو آج ہمیں مجبور کیا کہ ہم سڑکوں پر نکلیں اور عوام کو بھی سڑکوں پر نکالیں آج بلوچستان کے عوام کی عزتیں ننگ و ناموس محفوظ نہیں ہماری ماں بہنوں کی سروں سے چادریں اتاری جارہی ہے انکو سڑکوں پر گھسیٹ کر گرفتار کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ آج وہی قوتیں جنہوں جنہوں نے ہمارے سائل وسائل کو بے دردی سے لوٹا اور اب وہی قوتیں ہماری ماں بہنوں کے سروں سے دوپٹے اتار رہی ہے اور انہیں جیلوں میں قید کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارے ساتھی اکابرین بزرگ جیلوں میں جاتے تھے لیکن اب ہم شرمندہ ہیں کہ ہماری مائیں بہنیں جیلوں میں قید ہیں یہ سب ہماری خاموشی کی وجہ سے ہیں انہوں نے کہا کہ جب مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہم پر امن احتجاج کرکے ماں بہنوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں ہم اس وقت تک کوئٹہ میں دھرنے دیکر بھیٹیں رہیں گے جب تک مارنگ بلوچ و دیگر قید مائیں بہنیں رہا نہیں کئے جاتے ہم عید نماز بھی دھرنے میں پڑھیں گے اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے جب ہمارے بچے اغوا ہوتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ یہ بچہ اور کسی کا ہے کسی اور علاقے یا قبیلہ کا ہے یا کسی پڑوسی کا ہے ہمیں اس سے کیا لیکن سردار عطا اللہ مینگل کے فرزند اسد جان مینگل کو 1976 میں لاپتہ کرکے یہ سلسلہ شروع کیا گیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری اور اب بلوچستان کا ہر ہر فرد و ہر گھر ماتم میں ہیں اگر آج بھی ہم نہیں اٹھے تو آج صرف مارنگ بلوچ سمعی دین بیبو بلوچ نہیں بلکہ اگر ہم خاموش رہے تو میرے الفاظ یاد رکھنا پھر کسی کی بھی ننگ و ناموس محفوظ نہیں رہے گا انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو شہدا جو قربانیاں دی ہے اپنا خون بہایا تھا ان شہدا کی قبریں للکار رہی ہے کہ اٹھو اپنے ننگ ناموس کے وارث بنو اور ریاست کو یہ دکھا کہ بلوچستان کے خواتین لاوارث نہیں یہ نوجوان یہ بزرگ بلوچ ہی انکے ورثا ہیں اور یہ زندہ ہیں انہوں نے کہا ہم کوئٹہ میں دھرنے اس وقت تک دینگے جب تک گرفتار خواتین رہا نہ ہو تب تک دھرنا دینگے آخر میں قافلہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔