حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات سستی کر کے بجلی کے نرخ کم کرنیکا فیصلہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ملکی معیشت، توانائی، ٹیکس اصلاحات اور دیگر اہم معاملات پر بڑے فیصلے کیے گئے۔وزیراعظم نے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے معاہدے پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان میں معاشی اصلاحات، مہنگائی میں کمی اور مالی استحکام پر حکومت کی کارکردگی کو سراہا ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے لیے اسے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بیگاس سے چلنے والے پاور پلانٹس کے معاہدوں کی نظرثانی کی منظوری دی گئی تاکہ متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جا سکے۔اسلام آباد میں انکم ٹیکس، سروسز پر سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ترامیم کی منظوری دی گئی، جب کہ اساتذہ اور محققین کے لیے انکم ٹیکس ریبیٹ بحال کر دیا گیا۔ وسل بلوئر پروٹیکشن ایکٹ کی منظوری دی گئی تاکہ کرپشن کے خلاف گواہوں اور مخبر افراد کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
کابینہ نے سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز پر مزید مشاورت کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے شامل کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتری اور نجی شعبے کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ یہ فیصلے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اہم ثابت ہوں گے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد دیں گے۔