حکومت کا نیا فیصلہ، سولر صارفین کیلئے بری خبر
پاکستان میں مہنگائی اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے عوام شدید پریشان ہیں۔ بجلی کے بھاری بلوں سے نجات کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں نے گھروں میں سولر سسٹم نصب کیے، مگر حکومت کی نئی پالیسی نے صارفین کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے سولر صارفین سے بجلی 27 روپے فی یونٹ کے بجائے 10 روپے فی یونٹ میں خریدی جائے گی، جس کی وجہ سے سولر سسٹم پر خرچ کی گئی رقم کی واپسی کا دورانیہ 5 سال سے بڑھ کر 10 سال یا اس سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، لوگ متبادل توانائی ذرائع، خاص طور پر ونڈ پاور سسٹم کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن پاکستان کے سربراہ نثار لطیف کے مطابق، دنیا بھر میں ونڈ پاور کامیاب ہے، اور پاکستان میں بھی یہ ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی مخصوص علاقوں میں ممکن ہے جہاں ہوا کی رفتار اور تناسب مناسب ہو۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کے علاقے جھمپیر میں کامیاب ونڈ پاور پلانٹس موجود ہیں جو گرڈ اسٹیشن کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، ہر علاقے میں ہوا کی مقدار مختلف ہوتی ہے، جبکہ سولر سسٹم کے لیے صرف سورج کی روشنی درکار ہوتی ہے، جو ملک بھر میں دستیاب ہے۔
نثار لطیف کے مطابق، دنیا بھر میں سب سے سستی بجلی سولر سے پیدا کی جا رہی ہے، کیونکہ اس کی تنصیب آسان اور کم لاگت میں ممکن ہے۔ دوسری طرف، ونڈ پاور سسٹم صرف ان علاقوں میں مؤثر ہے جہاں ہوا کی مقدار زیادہ ہو۔
اخراجات کے لحاظ سے، ونڈ پاور سسٹم لگانے پر سولر کے مقابلے میں دگنی لاگت آتی ہے۔ اگر کسی گھر میں 10 لاکھ روپے کا سولر سسٹم لگایا جا سکتا ہے، تو اتنی ہی بجلی پیدا کرنے کے لیے ونڈ پاور پر 20 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ مزید برآں، ونڈ پاور زیادہ تر بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جبکہ گھریلو سطح پر اس کا نفاذ زیادہ مؤثر نہیں۔
عوام کے لیے کیا بہتر ہے؟
موجودہ حالات میں، ونڈ پاور سسٹم ہر علاقے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا، جبکہ سولر سسٹم اب بھی ایک سستا اور قابلِ عمل حل ہے۔ تاہم، حکومت کی نئی پالیسی کے باعث سولر انرجی میں سرمایہ کاری کا فیصلہ اب مزید غور و فکر کا متقاضی ہو گیا ہے۔