پاک سعودی تعلقات میں نیا موڑ! ولی عہد محمد بن سلمان کا پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان

ولی عہد محمد بن سلمان کا پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانیکااعلان

ولی عہد محمد بن سلمان کا پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانیکااعلان

ریاض: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی، جس میں باہمی تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم بدھ کے روز اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چار روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے، جہاں مکہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

جدہ میں ہونے والی اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک تھیں۔

اقتصادی و تجارتی تعاون میں وسعت

دونوں رہنماؤں نے پاک سعودی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عزم کو سراہا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر زور دیا۔

توانائی، دفاع، اور سرمایہ کاری جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

ملاقات میں خطے کی سیاسی صورتحال اور عالمی حالات پر بھی بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور یوکرین میں امن کے لیے سعودی عرب کے مثبت کردار کو سراہا اور مشترکہ وژن کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کا اعتراف کیا اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں ثقافتی تبادلے، عوامی روابط، اور تعلیمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جایا جا سکے۔

سعودی ولی عہد سے ملاقات کے بعد جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ محمد بن سلمان سے تعمیری اور مثبت گفتگو ہوئی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے پاکستان سے مسلسل تعاون پر ہم مشکور ہیں، اور دونوں ممالک کا مشترکہ وژن ہمارے تعلقات کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

وزیراعظم کے اس دورے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزراء بھی شامل ہیں۔

Authors

اپنا تبصرہ لکھیں