پاکستان میں ایک اور خطرناک دہشت گرد تنظیم کا انکشاف
پاکستان میں ایک نئی شدت پسند تنظیم “اسلامی انقلابی موومنٹ آف پاکستان” کا انکشاف ہوا ہے، جو ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر برپا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تنظیم سکیورٹی فورسز، سنی علماء، نمازیوں اور مدرسوں کے طلباء کو نشانہ بنانے کے خطرناک عزائم رکھتی ہے۔
ذرائع کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے سرغنہ آفتاب نذیر نے شام میں القاعدہ اور جبہۃ النصرہ کے الجولانی گروپ سے مل کر اس دہشت گرد تنظیم کو فعال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس گروپ کو پاکستان میں کارروائیوں کے لیے ایک “بیس ایریا” کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ تنظیم کے مقاصد میں ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنا شامل ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق آفتاب نذیر نے نہایت منظم منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردوں کو پاکستان کے محب وطن سنی علماء کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں، جن میں سے کچھ علماء کو ٹارگٹ کیا گیا، جبکہ دیگر خوش قسمتی سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اورنگزیب فاروقی، جو کالعدم لشکر جھنگوی کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے، نے بیرون ملک سے اپنے سیاسی مخالف مسرور نواز جھنگوی کا مکمل بائیوڈیٹا آفتاب نذیر کے ذریعے دہشت گردوں کو فراہم کیا۔ اس انکشاف نے ملک میں سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
سکیورٹی ادارے اس نئی شدت پسند تنظیم کی سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہے ہیں اور اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔