پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ رقم کر دی

پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ رقم کر دی

پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر سرمایہ کاروں کو ایک نئی امید دی ہے۔ 100 انڈیکس میں 1258 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 19 ہزار 32 کی سطح پر پہنچ گیا۔ گزشتہ روز بھی انڈیکس میں 972 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا، جس نے کاروباری ماحول کو مزید مثبت بنا دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس غیر معمولی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل بہتری حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تاجروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

اسٹاک مارکیٹ کے ماہر شہریار بٹ کے مطابق، مارکیٹ مسلسل پانچ سیشنز سے مثبت زون میں ہے اور مجموعی طور پر 3800 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ نے آج ایک موقع پر 1 لاکھ 18 ہزار کی نفسیاتی حد کو چھوا، لیکن کچھ دیر کے لیے ریڈ زون میں جانے کے بعد دوبارہ مستحکم ہو کر 1 لاکھ 17 ہزار 974 پر بند ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، پراپرٹی سیکٹر میں بہتری اور وزیراعظم کے بجلی نرخوں میں ممکنہ کمی کے اعلان کی توقع شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف مذاکرات میں پیشرفت اور پاکستان کو ممکنہ طور پر کچھ مالیاتی فنڈز ملنے کے امکانات بھی اسٹاک مارکیٹ پر مثبت اثر ڈال رہے ہیں۔

ماہر محسن مسیڈیا کے مطابق، حالیہ عرصے میں مارکیٹ میں کسی قسم کا سیلنگ پریشر نظر نہیں آیا، جس کی وجہ سے مسلسل اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مثبت اشارے اور آئی ایم ایف مذاکرات کی کامیابی نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے۔

مارکیٹ کے ماہرین اور سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اسٹاک مارکیٹ جلد ایک اور نیا ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں