ایم پوکس کیا ہے، کیسے ہوتا ہےاورعلامات کیا ہیں؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے افریقہ کے کچھ حصوں میں ایم پوکس کی وبا کو بین الاقوامی تشویش کا باعث اور صحت عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔صرف یہ ہی نہیں پاکستان میں‌بھی اس کے چند کیسز سامنے آئے ہیں-

اب پریشانی کی بات یہ ہے کہ ایم پوکس کیا ہے؟ کیسے ہوتا ہے؟ کیوں ہوتا ہے اور اس سے بچنا کیسے ہیں؟

یہ بلاگ آپ کو اس بیماری کے بارے میں سب کچھ بتانے والا ہے- لیکن اگر ابھی تک آپ نی ہمارا ورٹس ایپ چینیل سبسکرائب نہیں کیا ہے تو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں-

ایم پاکس ایک انتہائی متعدی بیماری، جسے پہلے ’منکی پوکس‘ کے نام سے جانا جاتا تھا- یہ بیماری اب تک جمہوریہ کانگو میں کم از کم 450 افراد کی جان لے چکی ہے۔

ایم پوکس کیا ہے ؟
ایم پوکس کی بیماری جو کہ منکی پوکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے- یہ چیچک جیسے وائرس کے گروپ سے ہے لیکن کم نقصان دہ ہے۔ یہ وائرس متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں، خون، تھوک، یا زخموں، قریبی جسمانی رابطے، خاص طور پر بچوں کے درمیان، اس بیماری کے پھیلاؤ کو آسان بناتے ہیں۔
ایم پوکس کی علامات :
بخار:
ایم پوکس آغاز سے قبل چند دن بعد شدید بخار کا باعث بنتی ہے۔
خارش اور دھبے:
بخار کے بعد جلد پر خارش اور دھبے نمودار ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ پھیل کر جسم کے دیگر حصوں پر بھی پھیل جاتے ہیں۔
جلدی دھبے:
یہ دھبے عام طور پر سرخ رنگ کے ہوتے ہیں اور کچھ دنوں بعد پھپھوندی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
تھکن اور کمزوری:
باقی تمام وائرس کی طرح ایم پوکس کا مریض بھی شدید تھکن اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔
پٹھوں اور جوڑوں میں درد:
ایم پوکس کا شکارمریض پٹھوں اور جوڑوں میں درد بھی محسوس کرتا ہے۔

ایم پوکس کا پھیلاؤ
یہ وائرس اصل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے لیکن اب انسانوں سے انسانوں کو بھی منتقل ہوتا ہے۔ یہ افریقہ کے جنگلات کے دور دراز دیہات میں جمہوریہ کانگو جیسے ممالک میں سب سے زیادہ عام ہے۔ ان علاقوں میں ہر سال اس بیماری سے ہزاروں کیسز اور سینکڑوں اموات ہوتی ہیں جن میں 15 سال سے کم عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

جانوروں سے پھیلاؤ:
ایم پوکس عام طور پر جنگلی جانوروں جیسے چوہوں، بندروں اور دیگر متاثرہ جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جانوروں کے کاٹنے، خراش یا ان کے جسمانی رطوبتوں کے ساتھ براہ راست رابطے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

انسانوں سے پھیلاؤ:
ایم پوکس انسانوں سے انسانوں کو بھی منتقل ہوتا ہے، خاص طور پر متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں، خون، تھوک، یا زخموں کے ذریعے۔ قریبی جسمانی رابطے، خاص طور پر بچوں کے درمیان، اس بیماری کے پھیلاؤ کو آسان بناتے ہیں۔

نقل و حرکت اور سفر:
متاثرہ علاقوں سے دوسرے مقامات پر سفر کرنے والے افراد بھی وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر
ایم پوکس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر درج ذیل ہیں:

1- جنگلی جانوروں کے ساتھ غیر ضروری رابطے سے گریز کریں اور ان کے کاٹنے یا خراشوں سے بچیں۔
2- صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھے، ہاتھوں کی مناسب صفائی اور صفائی ستھرائی کے اصولوں پر عمل کریں۔
3- متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے سے گریز کریں اور اگر کسی کو ایم پوکس کی علامات ہوں تو فوری طور پر طبی معائنہ کروائیں۔

ایم پوکس ایک سنگین بیماری ہے جو تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر صحتی ادارے اس بیماری کی روک تھام اور علاج کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ عوام اس بیماری کے بارے میں آگاہی حاصل کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ اس وبا کو روکا جا سکے اور انسانی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں