مستونگ: لکپاس میں جاری دھرنے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی قائدین نے شرکت کرکے یکجہتی کا اظہار کیا۔ دھرنے میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پارٹی کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباسی اور مرکزی رہنما شائستہ کھوسہ موجود تھے۔
اس کے علاوہ ملی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما صاحبزادہ احمد رضا بھی دھرنا گاہ پہنچے اور شرکاء سے ملاقات کی۔ پی ٹی آئی بلوچستان کے صوبائی صدر داود خان کاکڑ بھی وفد کے ہمراہ تھے۔ رہنماؤں نے دھرنے میں شریک مظاہرین سے گفتگو کی اور ان کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے بلوچ رہنما اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل سے بھی ملاقات کی اور ان کے مؤقف کی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے اور حکومت کو عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
دھرنے میں شریک رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
مظاہرین نے پی ٹی آئی کے وفد کا خیرمقدم کیا اور ان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ دھرنا گاہ میں سیاسی ماحول گرم رہا، جہاں مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اور حکومتی رویے پر شدید تنقید کی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کی دھرنے میں شرکت بلوچستان میں پارٹی کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھا سکتی ہے اور اس سے سیاسی ماحول پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے تاحال کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس دھرنے کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔