امریکا کے وینزویلا پر فضائی حملے، زمینی فوج بھی اتارنے کی تیاری
امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور مختلف ریاستوں میں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ملک کی اہم فوجی تنصیبات اور وزارتِ دفاع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر یہ کارروائی کی گئی۔ دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نچلی پرواز کرتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔
JUST IN: 🇺🇸🇻🇪 Reports of US Army CH-47 'Chinook' helicopters flying over Venezuela's capital, Caracas. pic.twitter.com/IZ0jzqke6I
— BRICS News (@BRICSinfo) January 3, 2026
دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جبکہ آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ میڈیا ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں وینزویلا کے وزیرِ دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان سے رابطہ ممکن نہیں رہا۔
صورتحال کے پیش نظر صدر نیکولس مادورو کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ صدارتی محل کے اطراف بکتربند گاڑیوں کی گشت جاری ہے۔ صدر مادورو نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ اس مقصد میں ناکام رہے گا۔
JUST IN: 🇻🇪 Close up footage of explosions in Caracas, Venezuela. pic.twitter.com/rgzli3MOFW
— BRICS News (@BRICSinfo) January 3, 2026
دوسری جانب غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکی میرینز کی جانب سے زمینی کارروائی کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ بڑھتی کشیدگی کے باعث صدر مادورو نے ملک میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
JUST IN: 🇻🇪 Video captures explosions in Venezuela's capital, Caracas. pic.twitter.com/jxsYpwSQXg
— BRICS News (@BRICSinfo) January 3, 2026
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور وینزویلا کے تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، خصوصاً منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف امریکی اقدامات اور وینزویلا پر بڑھتے دباؤ کے تناظر میں۔