بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں 2025 میں اضافہ
عورت فاؤنڈیشن بلوچستان نے 2025 کے دوران خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر مبنی اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال خواتین کے خلاف 123 سنگین جرائم رپورٹ ہوئے، جن میں قتل، غیرت کے نام پر قتل، اغواء، ہراسانی، جنسی زیادتی، گھریلو تشدد اور خودکشی شامل ہیں۔
سال 2025 میں 65 خواتین اور 25 مرد قتل ہوئے، جن میں سے 33 خواتین اور 25 مرد غیرت کے نام پر قتل ہوئے۔ خواتین اور بچوں کے سہولت مرکز (WJFC) کو 129 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں ہراسانی، گھریلو تشدد، اغواء، دھمکیاں، بلیک میلنگ، ڈیجیٹل تشدد اور مالی فراڈ شامل ہیں۔
سب سے تشویشناک غیرت کے نام پر قتل کے 58 واقعات ہیں، جن میں جعفرآباد میں 10، سبی اور لسبیلہ میں 4، نوشکی، خاران، مستونگ اور لورالائی میں 2 اور چاغی میں 1 کیس رپورٹ ہوا۔ گزشتہ چھ سالوں (2019-2025) میں کوئٹہ، نصیرآباد اور جعفرآباد میں خواتین کے قتل کی شرح سب سے زیادہ رہی۔
عورت فاؤنڈیشن نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے کیسز کی بروقت اور شفاف تحقیقات کی جائیں، پولیس، عدلیہ اور وکلاء کو خصوصی تربیت فراہم کی جائے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ رپورٹ میں معاشرتی روایات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خواتین کو تعلیم، معاشی مواقع، فیصلہ سازی میں نمائندگی اور مساوی حقوق فراہم کیے جائیں۔ عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں خواتین کے تحفظ اور بااختیاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔