سائبانِ پاکستان انتہا پسندی کے خلاف قومی بیانیہ ہے، احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے سائبانِ پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائبانِ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی یکجہتی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنانے کا ایک اہم اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں پیغامِ پاکستان جاری کیا گیا تھا، اور سائبانِ پاکستان اسی طرز پر قومی اتحاد، رواداری اور مکالمے کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو ہر شعبے میں نمائندگی حاصل ہے اور آئینِ پاکستان ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ اڑانِ پاکستان کے اہم ستونوں میں سماجی ہم آہنگی شامل ہے، جبکہ نوجوانوں میں برداشت، مکالمے اور رواداری کے فروغ کے لیے سائبانِ پاکستان ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ بین المذاہب مکالمہ پُرامن بقائے باہمی اور سماجی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مذہب اخلاقیات دیتا ہے، شہری حقوق نہیں چھینتا، اور تمام شہری برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میثاقِ مدینہ شہریت، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی اور باہمی احترام کا اولین ماڈل ہے۔
انہوں نے علما، سیاسی رہنماؤں، میڈیا، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ نفرت کے بجائے امن، برداشت اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ 2018 میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، گولی جسم میں لگی لیکن پیغام دل میں اتر گیا، اور اب ضرورت ہے کہ ذہنوں کو نفرت اور تعصب کے ہتھیاروں سے غیر مسلح کیا جائے۔