عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے خرید لی

135 ارب روپے کی بولی کے ساتھ عارف حبیب کنسورشیم پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کا مالک بن گیا

0 5

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور عارف حبیب کنسورشیم اس کے 75 فیصد حصص کا نیا مالک بن گیا ہے۔ حتمی بولی 135 ارب روپے کی رہی، جسے عارف حبیب کنسورشیم نے کامیابی کے ساتھ حاصل کیا۔

اس سے قبل، لکی سیمنٹ کنسورشیم بولی کے عمل سے دستبردار ہوگیا تھا، جس کے بعد مارکیٹ میں حبیب گروپ واحد کامیاب بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا۔ اس خریداری کے بعد پی آئی اے کی ملکیت میں بنیادی تبدیلیاں متوقع ہیں، اور حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ اقدام ایئرلائن کی مالی حالت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

پی آئی اے کے نجکاری عمل میں حصہ لینے والے گروپ نے کمپنی کے انتظام، آپریشنز اور مالی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے منصوبے پیش کیے ہیں۔ حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد نہ صرف ایئرلائن کی مالی بہتری ہے بلکہ ملکی معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو بھی سازگار بنانا ہے۔

عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ پی آئی اے کے موجودہ عملے کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جدید اقدامات کرے گا۔ علاوہ ازیں، ایئرلائن کی نئی مالی حکمت عملی میں ایندھن کی بچت، فلائٹ شیڈول میں بہتری اور کسٹمر سروس کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، پی آئی اے کی یہ نجکاری ملکی فضائی شعبے میں اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ سرمایہ کاری کے اس اقدام سے نہ صرف ایئرلائن کے خسارے میں کمی آئے گی بلکہ ملکی فضائی شعبے میں مسابقت کو بھی فروغ ملے گا۔

عوامی اور نجی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حبیب گروپ کی جانب سے پی آئی اے میں سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ایئرلائن کی خدمات مزید بہتر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں گی۔

پی آئی اے کے موجودہ شیئر ہولڈرز نے بھی اس فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ہے، اور توقع ہے کہ نجکاری کے بعد کمپنی کے مالی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس قدم سے ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا، کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی پاکستان کی فضائی صنعت میں دلچسپی لیں گے۔

حبیب گروپ کی جانب سے اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کمپنی کے کس حصے میں فوراً سرمایہ کاری کرے گا، تاہم منصوبہ بندی کے مطابق اگلے چند ماہ میں کئی اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔

نجکاری کے عمل سے پیدا ہونے والے امکانات میں بین الاقوامی مارکیٹ میں پی آئی اے کی مضبوط موجودگی، نئی فلائٹس کے آغاز اور موجودہ عملے کے لیے تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات کمپنی کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مسافروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے کیے جائیں گے۔

پی آئی اے کے نجکاری کے اس عمل کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا ہے، اور یہ اقدام پاکستان کی فضائی صنعت میں سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔

یہ اقدام ملکی فضائی شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور مالی استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے بھی مثبت ماحول پیدا ہوگا۔

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.