پی آئی اے کی نجکاری کے لیے دوسری کوشش، بولی 23 دسمبر کو متوقع
قومی ائیرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے دوسری کوشش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بولی کے تمام انتظامات آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو 23 دسمبر کو ہونے والے بولی کے عمل میں شرکت کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 150 سے 190 ارب روپے کے درمیان ہے۔ ایئرلائن کے بیڑے میں 34 طیارے شامل ہیں، تاہم اس وقت صرف 18 طیارے آپریشنل جبکہ 16 گراؤنڈ ہیں۔ پی آئی اے یومیہ 70 پروازیں آپریٹ کرتی ہے جن میں 45 بین الاقوامی اور 25 اندرونِ ملک پروازیں شامل ہیں۔
فی الوقت پی آئی اے 18 بین الاقوامی اور 13 ڈومیسٹک روٹس پر خدمات فراہم کر رہی ہے، جبکہ بیڑے میں بوئنگ ٹرپل سیون، ایئربس اور اے ٹی آر طیارے شامل ہیں۔ ایئرلائن کے کل ملازمین کی تعداد ساڑھے 9 ہزار ہے، جن میں ساڑھے 6 ہزار مستقل جبکہ باقی کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی یومیہ آمدنی 600 سے 800 ملین روپے کے درمیان ہے، جبکہ جنوری سے جون 2025 کے دوران ایئرلائن نے 112 ارب روپے کی آمدنی حاصل کی۔ امریکا اور فرانس میں واقع پی آئی اے کے ہوٹلز کو پہلے ہی ایئرلائن سے علیحدہ کر کے الگ کمپنیوں کے تحت رکھا جا چکا ہے۔
نجکاری میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں نے نجکاری کے بعد کم از کم ایک سال تک کسی ملازم کو برطرف نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم تین سال تک ملازمین کو نہ نکالنے کی شرط ماننے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد تک شیئرز فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ لندن اور برمنگھم کے لیے پروازیں جلد بحال کیے جانے کا بھی امکان ہے۔