این ایف سی اجلاس: ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کا 5 فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی

0 3

 گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم پر ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاق نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات طلب کیں، جس پر سندھ نے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں میں سے 5 فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کی، تاہم صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اجلاس میں سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے وزرائے خزانہ اور دیگر ارکان شریک تھے۔

اجلاس میں وفاقی وزارت خزانہ نے مالی صورتحال پر بریفنگ دی، جس کے بعد صوبوں نے بھی اپنی مالی پوزیشن کی تفصیل پیش کی۔ وسائل کی تقسیم کے لیے ورکنگ گروپ کے علاوہ سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام اور فنڈز کے تعین کے لیے بھی الگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے۔ انہوں نے صوبوں کے مؤقف کو سننے اور مشترکہ فیصلے کے لیے کھلے ذہن کی ضرورت پر زور دیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے مطابق صوبوں کے حصے میں کوئی کمی نہیں کی گئی، اجلاس میں تمام مسائل پر تعمیری اور جامع مکالمہ ہوا اور سب کی بات سنی گئی۔

این ایف سی اجلاس کا مقصد ملک میں مالی استحکام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ صوبوں کے ساتھ شفاف اور تعمیری رابطے کے ذریعے قومی مفاد میں فیصلہ سازی کی جاتی رہے گی۔

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.