عمران خان کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت پر ہے،قاسم خان
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن گزر چکے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چھ ہفتوں سے عمران خان کو ایک ’ڈیتھ سیل‘ میں مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے، اور عدالت کے واضح احکامات کے باوجود اُن کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
قاسم خان کے مطابق، عمران خان سے نہ فون کال پر کوئی رابطہ ہوا ہے، نہ ملاقات کی اجازت ملی ہے، اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں کوئی تصدیق فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کا بھائی کئی ہفتوں سے اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال “حفاظتی پروٹوکول” نہیں بلکہ ایک ’مکمل بلیک آؤٹ‘ ہے، جس کا مقصد عمران خان کی حالت کو چھپانا اور ان کے خاندان کو اُن کی صحت اور سلامتی کے بارے میں کچھ جاننے سے روکنا ہے۔
قاسم خان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر اس غیر انسانی سلوک کے نتیجے میں عمران خان کی صحت یا جان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری پاکستانی حکومت پر عائد ہوگی۔
آخر میں انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں، عمران خان کی زندگی اور صحت کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے فیصلے کے مطابق اُن تک رسائی اور ملاقات کو یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کا خاتمہ کرائیں اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کریں، جنہیں ان کے مطابق، سیاسی بنیادوں پر قید رکھا گیا ہے۔