واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے چند قدموں کے فاصلے پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے پورے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ نامعلوم حملہ آور نے اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، جس کے نتیجے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔
فائرنگ کے فوری بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ موقع پر موجود عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا وقت 2:15 کے قریب تھا، جب ایک اہلکار گولی لگنے سے زمین پر گر پڑا اور ساتھی فوراً اس کی مدد کو دوڑے۔
عرب میڈیا کے مطابق گورنر مغربی ورجینیا نے ابتدا میں دونوں اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، تاہم بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا۔
واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس، آئی اسٹریٹ اور اردگرد کے علاقے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیے گئے، جبکہ شہریوں کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے کی بریفنگ دے دی گئی ہے اور وہ صورتحال کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے حملہ آور کو “جانور” قرار دیا اور کہا کہ “نیشنل گارڈ پر فائرنگ کرنے والا بھاری قیمت چکائے گا۔”
دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی، ایف بی آئی اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیاں مشترکہ تحقیقات کر رہی ہیں۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ “حملہ آوروں نے گھات لگا کر حملہ کیا، دونوں اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔ تاہم واشنگٹن میں اب کوئی دوسرا مشتبہ شخص موجود نہیں۔”
صورتحال کے تناظر میں 500 مزید فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے جبکہ رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ کو کچھ دیر کے لیے بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا۔