عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون نے اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر گھریلو یا جنسی تشدد کا سامنا کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 84 کروڑ خواتین شریکِ حیات یا کسی اور شخص کی جانب سے تشدد کا شکار رہ چکی ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران 15 سال یا اس سے زائد عمر کی تقریباً 31 کروڑ 60 لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو اپنے شریکِ حیات کی طرف سے جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جو اس عمر کی عالمی آبادی کا 11 فیصد ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئیسس نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد دنیا کی سب سے پرانی اور وسیع ناانصافیوں میں سے ایک ہے، لیکن اس مسئلے کو وہ توجہ نہیں مل رہی جس کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق “جب آدھی آبادی خوف میں زندگی گزار رہی ہو تو کوئی معاشرہ منصفانہ یا محفوظ نہیں کہا جا سکتا۔”
یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے پہلے جاری کی گئی ہے، جس میں 2000 سے 2023 تک 168 ممالک سے جمع کیے گئے اعداد و شمار شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں عالمی امداد کا صرف 0.2 فیصد حصہ خواتین پر تشدد کی روک تھام کے پروگراموں کے لیے مختص کیا گیا، جبکہ رواں سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی امداد میں کی گئی بڑی کٹوتیوں کے باعث یہ فنڈنگ مزید کم ہو گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں، انسانی بحرانوں اور ماحولیاتی تباہ کاریوں سے متاثرہ خطوں میں خواتین اور لڑکیوں کو جنسی و گھریلو تشدد کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نقل مکانی، عدم تحفظ اور کمزور حالات ان کے لیے خطرات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔