اسلام آباد: دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ افغانستان سے تجارت صرف اس وقت ممکن ہوگی جب وہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں مکمل طور پر ختم ہوں گی۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ افغان طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان کسی دہشت گرد گروپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے پاکستان کے دشمن ہیں اور افغان طالبان پاکستان مخالف تنظیموں کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے پاکستان میں پشتون نیشنلزم کو ہوا دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ پاکستان نے کابل میں کسی حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار نہیں کیا، مگر دہشت گردوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
دفتر خارجہ نے بھارت کے ایٹمی تجربات کے دعوے کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ پاکستان نے آخری مرتبہ ایٹمی تجربہ 28 مئی 1999ء کو کیا تھا۔ افغانستان سے تجارت انسانی جانوں کے ضیاع سے زیادہ اہم نہیں، اور دہشت گردوں کے خاتمے تک یہ ممکن نہیں ہوگی۔
ترجمان نے بتایا کہ وانا اور اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں افغان دہشت گرد ملوث ہیں، اور طالبان حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دہشت گردی کو اپنی داخلی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اُردن کے بادشاہ کے دورے کے حوالے سے بھی معلومات دی گئیں اور کہا کہ فلسطین میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ سلامتی کونسل کے فیصلے کے بعد ہوگا۔