سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی
اسلام آباد، 10 نومبر 2025: اپوزیشن کے بائیکاٹ اور احتجاج کے باوجود پاکستان کی ایوان بالا یعنی سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025، دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا۔ بل کے حق میں 64 ووٹ ڈالے گئے۔
یہ بل وفاقی آئینی عدالت کے قیام، صدرِ مملکت کو استثنیٰ دینے اورفیلڈ مارشل سمیت اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات حیثیت دینے سے متعلق ہے۔ تاہم، ماہرینِ قانون اور اپوزیشن نے اس ترمیم کو عدلیہ کی خودمختاری پر اثرانداز ہونے والا قدم قرار دیا ہے۔
اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے شدید احتجاج کیا، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ شور شرابے کے باوجود سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے شق وار ووٹنگ کا عمل جاری رکھا اور تمام 59 شقیں منظور کر لی گئیں۔
اہم نکات
بل پیش کرنے والے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق، اس ترمیم کے ذریعے آئین کے مختلف آرٹیکلز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں آرٹیکل 10، 17، 42، 105، 146، 152، 159، 168، 175، 176، 214، 239، 243، اور 255 شامل ہیں۔
اہم ترامیم درج ذیل ہیں:
وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جس میں چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی ہوگی۔
چیف آف آرمی اسٹاف کا نیا عہدہ چیف آف ڈیفنس فورسز کہلائے گا۔
فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے تاحیات برقرار رہیں گے۔
صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کو عدلیہ میں تعیناتیوں میں زیادہ کردار دیا گیا ہے۔
ججوں کے تبادلے کا اختیار اب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے پاس ہوگا۔
ہائی کورٹ جج کی وفاقی آئینی عدالت میں تقرری کے لیے اہلیت مدت سات سال سے گھٹا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن میں ایک ٹیکنوکریٹ، خاتون یا غیر مسلم رکن شامل کیا گیا ہے تاکہ نمائندگی میں متوازن ہو۔
ازخود نوٹس اور ٹیکس مقدمات
بل کے مطابق ازخود نوٹس (Suo Motu) کے اختیارات اب صرفتحریری درخواست اور عدالت کی اطمینان پر استعمال ہوں گے، تاکہ شفافیت کو فروغ ملے۔
ریونیو اور ٹیکس مقدمات میں اسٹے آرڈر کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کر دی گئی ہے، تاہم مقررہ مدت کے بعد کیس غیر فیصلہ شدہ رہا تو اسٹے خود بخود ختم ہو جائے گا۔
صدر کو استثنیٰ کی وضاحت
ترمیم میں واضح کیا گیا ہے کہصدرِ مملکت کو استثنیٰ صرف اپنے عہدے کی مدت کے دوران حاصل ہوگا۔ مدت پوری ہونے کے بعد اگر وہ کوئی عوامی عہدہ سنبھالتے ہیں تو یہ استثنیٰ لاگو نہیں ہوگا۔
سینیٹ کی کارروائی
بل پر حتمی ووٹنگ سے قبل دو منٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں- اور سینیٹ کے دروازے بند کر دیے گئے۔ تمام 59 شقیں دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئیں۔