کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر متعدد پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ بلوچستان نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی، تاہم خواتین اور بچوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
عوامی مقامات پر نقاب، چہرہ ڈھانپنے، مفلر یا ماسک کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں، سیاہ شیشے والی گاڑیوں اور ہتھیاروں کے استعمال یا نمائش پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، دھرنوں اور ریلیوں کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ دھماکا خیز مواد اور سلفیورک ایسڈ کی نقل و حرکت بھی سختی سے ممنوع قرار دی گئی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
پولیس، لیویز اور ایف سی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکم نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ روزانہ کی عملدرآمد رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کریں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق یہ پابندیاں 5 نومبر کے نوٹیفکیشن میں ترمیم کے بعد عائد کی گئی ہیں اور یہ 30 نومبر 2025 تک نافذالعمل رہیں گی۔