جنوبی امریکی ملک کولمبیا میں ایک حیران کن طبی معاملہ سامنے آیا ہے جہاں 82 سالہ خاتون کے پیٹ میں 40 برس سے موجود مردہ بچہ دریافت ہوا۔ خاتون معمول کے پیٹ درد کے باعث اسپتال گئیں، مگر ایم آر آئی اسکین نے وہ راز کھول دیا جس نے ڈاکٹروں کو بھی دنگ کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق خاتون چند ماہ سے پیٹ درد میں مبتلا تھیں۔ اسپتال میں تفصیلی اسکین کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں ایک مردہ جنین موجود ہے جو چار دہائیوں سے اندر ہی محفوظ تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ انتہائی نایاب طبی کیفیت “لیتھوپیڈین” یا “پتھریلا بچہ” کہلاتی ہے۔ یہ اس وقت پیش آتی ہے جب حمل رحم کے بجائے پیٹ میں ٹھہر جائے۔ ایسی صورت میں جنین کو مناسب خون نہیں مل پاتا اور وہ زندہ نہیں رہتا۔ اگر جسم اسے خود سے خارج نہ کر سکے تو حفاظتی عمل کے طور پر اسے کیلشیم کی سخت تہہ میں لپیٹ دیتا ہے تاکہ انفیکشن نہ پھیلے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی تہہ پتھر جیسی ہو جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق خاتون کے جسم میں موجود کیلشیم زدہ جنین کا وزن تقریباً چار پاؤنڈ تھا اور وہ دہائیوں تک خاموشی سے اندر موجود رہا۔ اس کی موجودگی کا علم بالآخر ایکس رے اور ایم آر آئی اسکین کے ذریعے ہوا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لیتھوپیڈین کے واقعات نہایت کم دیکھے گئے ہیں اور اب تک صرف چند سو کیسز ہی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اکثر مریضوں کو اس کیفیت کا پتا کسی اور طبی معائنے کے دوران ہی چلتا ہے۔