سپریم کورٹ کی بیسمنٹ کینٹین میں گیس سلنڈر کے دھماکے سے 12 افراد زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دھماکے سے سپریم کورٹ کی عمارت لرز گئی اور کینٹین کا فرنیچر شدید نقصان کا شکار ہوا۔ بار ایسوسی ایشن کے استقبالیہ کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کورٹ نمبر 6 بھی متاثر ہوئی۔ دھماکے کے وقت جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ملک شہزاد سماعت کر رہے تھے۔
سکیورٹی اور امدادی اہلکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا اے سی گیس پلانٹ کی مرمت کے دوران ہوا، جس کے فوراً بعد وکلاء اور سپریم کورٹ کے عملے کو عمارت سے باہر نکالا گیا۔
اسلام آباد کے آئی جی نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 3 افراد پمز اور 9 کو پولی کلینک اسپتال منتقل کیے گئے، جبکہ ایک اے سی ٹیکنیشن کا 80 فیصد جسم جھلس گیا۔ آئی جی نے مزید کہا کہ کینٹین میں کئی روز سے گیس کا لیکج جاری تھا اور مرمت کے دوران حادثہ پیش آیا، ماہرین نے بھی تصدیق کی کہ دھماکا گیس کے سبب ہوا۔
متعلقہ حکام نے دھماکے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔