کیا کالعدم پی ٹی ایم ختم ہو گئی؟

اکتوبر 2024 میں خیبر ضلع میں کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا ایک بڑا جرگہ ہوا تھا جس میں آئندہ احتجاجی مظاہروں اور عوامی رابطہ مہم کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس کے بعد سے نہ تنظیم کی سرگرمی نظر آئی، نہ ہی اس کے رہنما منظرِ عام پر آئے — جس سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا پی ٹی ایم اب ختم ہو چکی ہے؟

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق وہ جرگہ پی ٹی ایم کے لیے “آخری اجلاس” ثابت ہوا۔ پشتون حقوق کے نام پر شروع ہونے والی یہ تحریک اب یا تو تحلیل ہو چکی ہے یا آخری مراحل میں ہے۔

دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ حامی اب بھی موجود ہیں، مگر تنظیمی سطح پر کوئی واضح منصوبہ یا قیادت نظر نہیں آتی۔

پشاور کے صحافی انور زیب، جنہوں نے کئی جلسوں اور جرگوں کی کوریج کی، کہتے ہیں کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد منظور پشتین اور پی ٹی ایم اچانک قومی سطح پر نمایاں ہوئے۔

“پی ٹی ایم ابتدا میں غیر سیاسی کہلاتی تھی مگر عملی طور پر اس کے گرد سیاسی عناصر جمع تھے۔ تحریک نے ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی لیکن اکتوبر 2024 کا جرگہ ان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ اب منظور پشتین اور ان کے رفقا کہیں نظر نہیں آ رہے۔”

انور زیب کے مطابق، “ایک سال گزرنے کے باوجود کوئی سرگرمی نہیں ہوئی، عوامی رابطہ منقطع ہے، اور یہی کسی بھی تحریک کے خاتمے کی علامت ہوتی ہے۔”

پشاور کے ایک اور تحقیقاتی صحافی وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی ٹی ایم پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی، لیکن اگر تنظیم دوبارہ منظم ہوئی تو عوامی حمایت دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔

ان کے مطابق، خیبر جرگے کے بعد تنظیم کو اندرونی اختلافات، حکومتی کارروائیوں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

“پابندی اور مقدمات کے بعد قیادت روپوش ہو گئی۔ فی الحال تنظیم غیر فعال ہے، مگر مکمل خاتمہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔”

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم پر بیرونی فنڈنگ اور ملک دشمن بیانیے کے الزامات لگائے گئے، تاہم یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ آیا وہ واقعی اکسا رہے تھے یا حقیقی مسائل اجاگر کر رہے تھے۔

“اختلاف اپنی جگہ، لیکن پی ٹی ایم نے ریاست کو قبائلی مسائل پر متوجہ ضرور کیا۔”

کچھ مبصرین کے مطابق، تنظیم کی اچانک پابندی اور منظر سے غائب ہونا اس کی ناکامی کی نشانی ہے، جبکہ قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہنما اب بھی رابطے میں ہیں مگر حکومتی کارروائیوں سے بچنے کے لیے عارضی طور پر خاموش ہیں۔

پی ٹی ایم کا پس منظر

پشتون تحفظ موومنٹ کی بنیاد 2014 میں جنوبی وزیرستان کے نوجوان منظور پشتین نے رکھی۔ ابتدا میں یہ محسود تحفظ موومنٹ کہلاتی تھی، جس کا مقصد فوجی آپریشنز سے متاثرہ افراد، بارودی سرنگوں اور لاپتہ افراد کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔

جنوری 2018 میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد اس تحریک کو ملک گیر شہرت ملی۔ “پشتون لانگ مارچ” کے ذریعے تنظیم اسلام آباد پہنچی، جہاں اسے عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں اس کا نام بدل کر پشتون تحفظ موومنٹ رکھا گیا۔

ریاست کے ساتھ تعلقات وقت کے ساتھ کشیدہ ہوتے گئے، یہاں تک کہ 6 اکتوبر 2024 کو وفاقی حکومت نے تنظیم پر امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق، پی ٹی ایم “ملک دشمن بیانیہ اور انتشار پھیلانے” میں ملوث تھی۔

رپورٹ: سراج الدین

Author

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں…
Leave A Reply

Your email address will not be published.