اسرائیل نے قطر پر حملہ کردیا

0 8

اسرائیل نے قطر پر حملہ کردیا

دوحہ: اسرائیل نے قطر میں فضائی حملہ کر کے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا، تاہم حماس کے رکن خلیل الحیہ محفوظ رہے۔ حملے میں ان کے بیٹے ہمام الحیہ، دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، عبداللہ عبد الواحد (ابو خلیل)، معمن حسونہ (ابو عمر)، احمد المملوک (ابو مالک) اور قطر کی سیکیورٹی فورسز کے کارپورل بدر سعد محمد الحمایدی شہید ہو گئے۔

اس حملے کا مقصد حماس کی مذاکراتی ٹیم کو نشانہ بنانا تھا، جو امریکا کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کر رہی تھی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی اجازت دی تھی۔

حماس کے رہنما سہیل الہندی نے اسے نہ صرف حماس بلکہ تمام عربوں اور مسلمانوں کے خلاف جارحیت قرار دیا اور عالمی برادری سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مقامی افراد کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

قطر پر اسرائیلی حملے پر صدر ٹرمپ اور عرب ممالک کی شدید ردعمل

دوحہ: قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حملے کے ہر پہلو سے ناخوش ہیں اور قطر امریکہ کا مضبوط اتحادی ہے، اس لیے یکطرفہ بمباری درست نہیں تھی۔ صدر ٹرمپ نے قطر کے امیر اور وزیرِ اعظم سے رابطہ کیا اور یقین دہانی کروائی کہ اس قسم کے حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے بعد بیان میں کہا کہ حملہ ایک “لاپرواہی پر مبنی مجرمانہ کارروائی” ہے اور قطر اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔

عرب لیگ نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ جارحیت عرب ریاست کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے اور خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ اسرائیلی حملہ “ریاستی دہشت گردی” کے مترادف ہے اور قطر کو اس کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ واقعہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرناک ہے اور اسرائیلی اقدامات اخلاقی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ قطر کی سفارت کاری امن اور سیاسی حل کی بنیاد پر قائم ہے اور پرتشدد اقدامات اسے اپنے ثالثی کے کردار کو جاری رکھنے اور خطے کے استحکام کے لیے کوششیں کرنے سے نہیں روک سکتے۔

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.