مشترکہ کاوشوں سے خطے کا پائیدار توانائی مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے، اویس لغاری
مشترکہ کاوشوں سے خطے کا پائیدار توانائی مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے، اویس لغاری
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2030 تک اپنے توانائی مکس میں 60 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وہ ای سی او کلین انرجی سینٹر (CECECO) کے بورڈ آف گورنرز کے افتتاحی اجلاس سے ورچوئل خطاب کر رہے تھے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان میں سولر انقلاب جاری ہے اور گھروں و کاروباروں کے لیے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے 5.8 گیگاواٹ شمسی گنجائش شامل کی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک کی گرڈ کیپیسٹی میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 42 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ گزشتہ برس آدھی سے زیادہ بجلی صاف ذرائع سے پیدا کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہوا، ہائیڈرو اور شمسی توانائی کے وافر وسائل کو بروئے کار لا رہا ہے اور تقریباً تمام نئے منصوبے جدید صاف توانائی ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں مائیکرو گرڈز اور غیرمرکزی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیر توانائی نے ای سی او کلین انرجی سینٹر کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم خطے میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ انفراسٹرکچر اور مربوط سبز گرڈ کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی کامیابیاں اور تجربات رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرے گا تاکہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے خطے کے لیے محفوظ، پائیدار اور سبز توانائی مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔