دریا ناراض کیوں ہیں؟

پنجاب کی دھرتی کبھی چھ دریاؤں کی دولت سے مالا مال تھی:

دریائے سندھ

دریائے جہلم

دریائے چناب

دریائے راوی

دریائے ستلج

دریائے بیاس

یہ دریا اپنی اپنی راہوں سے بہتے، چراگاہوں اور جنگلات کو سیراب کرتے، ہزاروں میل تک زمین کو زرخیز بناتے اور پھر ہلکی روانی کے ساتھ دریائے سندھ میں جا ملتے تھے۔ انہی دریاؤں کی بدولت پنجاب کی دھرتی سبز و شاداب رہتی، لوگ سکھی بستے اور فطرت اپنے جوبن پر رہتی تھی۔

برسات کے دنوں میں اگر پانی کچھ زیادہ ہو بھی جاتا تو دائیں بائیں کی چراگاہیں اسے اپنی گود میں سمیٹ لیتیں۔ یہ چراگاہیں عوام کی سانجھی ملکیت تھیں جہاں پرندے اور جانور پلتے، جنگلات آباد رہتے اور شکار گاہیں فطرت کا حسن بڑھاتی تھیں۔

مگر پھر وقت بدلا۔

اہلِ اقتدار نے دریائے بیاس کا وجود ہی ختم کر دیا۔ اس کا آدھا پانی ستلج میں ڈال دیا گیا اور آدھا راوی میں۔ پھر ان دونوں دریاؤں پر ڈیم باندھ کر بہاؤ کو بھی محدود کر دیا گیا۔ دریائے بیاس، جو کبھی ہزاروں کلومیٹر بہتا تھا، صرف 470 کلومیٹر تک محدود کر دیا گیا۔

یہی نہیں، دوسرے دریاؤں پر بھی اتنے زیادہ ڈیم بنا دیے گئے کہ وہ دریا کم اور نہریں زیادہ لگنے لگے۔ چراگاہوں پر قبضے ہو گئے، دریاؤں کے پاٹ میں بستیاں اور سوسائٹیاں بس گئیں، جبکہ پانی کھینچنے کے لیے زمین میں کنویں ڈال دیے گئے۔ یوں فطرت کی پرورش کرنے والے جنگلات، چراگاہیں، پرندے اور جانور سب غائب ہو گئے۔ دریا کے کنارے اب کنکریٹ کی بلند عمارتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ جب کوئی شاعر یا ادیب فطرت کو زندہ رکھنے کی بات کرتا ہے تو اسے “پاگل” کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اقتدار اور منافع کے بھوکے بیوپاریوں کے لیے یہ باتیں غیر منافع بخش ہیں۔ ان کے نزدیک فطرت کی لاش سے ہی دولت کے سکے بنائے جا سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی حکومت اور مقتدر لوگ نہیں جانتے دریائے بیاس کے ساتھ کیا ہوا؟ دریائے راوی اور ستلج پر کیا کھیل کھیلا گیا؟ کیا یہ سب فیصلے سوچے سمجھے بغیر ہوئے؟

یقین مانیے، جب تک دریائے بیاس کو اس کی زمین واپس نہیں ملتی، جب تک دیگر دریاؤں کی چراگاہیں اور جنگل انہیں واپس نہیں کیے جاتے، تب تک بستیاں ڈوبتی رہیں گی، سیلاب آتے رہیں گے، اور بڑے بڑے لکھاری ان اسباب کو چھپا کر وہی کہانیاں گھڑتے رہیں گے جن میں نہ مقتدر طبقے کی عزت پر حرف آئے اور نہ بیوپاریوں کے مفادات پر۔

Authors

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.