نواب اکبر بگٹی کی شہادت کا 19واں یوم، بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ باب
بلوچ عوام کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے رہنما کی قربانی آج بھی مشعلِ راہ ہے
کوئٹہ: بلوچستان کے عظیم رہنما، سابق گورنر و وزیراعلیٰ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کو آج 26 اگست 2025 کو انیس برس مکمل ہو گئے۔ 26 اگست 2006 کو فوجی آپریشن کے دوران ان کی شہادت نے بلوچ قوم کے لیے ایک ایسا ناقابل فراموش سانحہ رقم کیا، جو بلوچستان کی سیاسی و سماجی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی، جن کی پیدائش 12 جولائی 1927 کو ہوئی، ایک اصول پسند اور جمہوری اقدار کے حامی رہنما تھے۔ وہ گورنر اور وزیراعلیٰ کے عہدوں پر فائز رہے اور ہمیشہ صوبے کے وسائل پر مقامی عوام کے حق کی بات کی۔ ان کا سیاسی فلسفہ بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے اور وفاق کے اندر صوبے کے مقام کو یقینی بنانے پر مبنی تھا۔
26 اگست 2006 کو کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے پہاڑی علاقوں میں ایک فوجی آپریشن کے دوران بمباری میں نواب اکبر بگٹی شہید ہوئے۔ ان کی لاش حکومتی تحویل میں لی گئی اور تابوت کو تالے لگا کر لواحقین کے حوالے کیا گیا، جس سے عوام اور اہلخانہ کو آخری دیدار کی اجازت بھی نہ ملی۔
اس سانحے سے قبل 2005 میں سوئی گیس فیلڈ میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بلوچستان میں کشیدگی کا سبب بنا۔ نواب بگٹی نے انصاف کا مطالبہ کیا مگر حکومتی سطح پر مسترد ہونے پر حالات مزید بگڑ گئے اور بالآخر وہ پہاڑوں کی طرف جانے پر مجبور ہوئے۔
نواب بگٹی کی شہادت نے بلوچ تحریک کو نئی جہت دی۔ ان کی جدوجہد اور سیاسی ورثہ آج بھی بلوچستان کے عوام کے لیے حقوق کی مضبوط آواز ہے۔ خاص طور پر صوبے کے وسائل اور سوئی گیس سے حاصل آمدنی میں مقامی عوام کے حصے کے مطالبات ان کے فلسفے کی بنیاد تھے۔
ان کی 19ویں برسی کے موقع پر بلوچستان بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ کوئٹہ پریس کلب میں ریفرنس منعقد ہوا، جس میں سیاسی رہنما، دانشور اور کارکن شریک ہوئے جبکہ عالمی سطح پر بلوچ کمیونٹی نے بھی ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔
نواب اکبر بگٹی کی شہادت بلوچستان کی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے، جو آج بھی بلوچ عوام کی جدوجہد، قربانی اور اصول پسندی کی علامت ہے۔