بونیر/اسلام آباد: بونیر اور باجوڑ میں گزشتہ روز کلاﺅڈ برسٹ کے نتیجے میں شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ برگیڈئیر کامران کے مطابق یہ ناگہانی آفت تھی جس سے علاقے میں ریکوری اور امدادی کاموں کی فوری ضرورت پیدا ہوئی۔
برگیڈئیر کامران نے بتایا کہ سب سے پہلے آرمی سے رابطہ کیا گیا، جس کے بعد متعلقہ ٹیموں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ پنجاب سے آرمی کی دو بٹالین بونیر اور شانگلہ بھیجی گئیں۔ پاک آرمی کے انجینئرز، ڈاکٹرز اور جوان متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں۔
جن علاقوں میں رابطہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، وہاں بحالی کا کام جاری ہے۔ متاثرہ اضلاع میں ریکوری آپریشن کے ساتھ ساتھ امدادی سامان اور خوراک کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
چیئر مین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ این ڈی ایم اے صوبائی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔ بونیر، باجوڑ اور بٹگرام میں بحالی کا کام تیز کیا جا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گرمی کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے مون سون کا پھیلاہو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ستمبر کے پہلے 10 دنوں تک مون سون جاری رہنے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان میں فلش فلڈز اور سیاحتی مقامات پر حادثات بھی پیش آئے، جبکہ بابوسر میں نقصانات زیادہ ہوئے۔
چیئر مین این ڈی ایم اے نے شہریوں کے لیے آگاہی مہم کے ذریعے پیشگی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔