مچھ میں 300 سال پرانا قبرستان دریافت، بارشوں سے قبریں اجڑ گئیں
مچھ میں 300 سال پرانا قبرستان دریافت، بارشوں سے قبریں اجڑ گئیں
مچھ: بلوچستان کے علاقے مچھ میں واقع ندی کنارے تین سو سال پرانا قبرستان حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ زمین کھسکنے اور پانی کے بہاؤ سے قبروں کے منہ کھل گئے، جس کے باعث انسانی ہڈیاں زمین پر ظاہر ہو گئیں۔
مقامی افراد کے مطابق یہ قبرستان ان کے آباؤ اجداد کا ہے جو کبھی ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ تاہم، ندی کے بدلتے بہاؤ اور موسمی شدت کے باعث قبرستان کا بڑا حصہ مٹ چکا ہے۔
سینئر صحافی محمد عمران سمالانی سے گفتگو میں ایک بزرگ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:یہ صرف قبریں نہیں، ہماری تاریخ اور شناخت کا حصہ ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ سب کچھ مٹتا جا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
ایک اور مقامی نوجوان سفر خان سمالانی نے بتایا کہ بارش کے بعد جب وہ قبرستان پہنچے تو کئی قبریں کھلی ہوئی تھیں اور ہڈیاں باہر پڑی تھیں، جو دیکھ کر دل کانپ اٹھا۔
سماجی کارکن غلام سرور تالپور نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا:یہ محض قبریں نہیں، ہمارے تاریخی ورثے کا زندہ ثبوت ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔
اہل علاقہ نے قبرستان کو محفوظ بنانے، ندی کے بہاؤ کو موڑنے، اور تاریخی مقام کو باضابطہ تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ ورثہ آنے والی نسلوں تک محفوظ رہے۔