میجر طفیل شہید: ایک ناقابلِ شکست داستانِ شجاعت

0 3

میجر طفیل شہید: ایک ناقابلِ شکست داستانِ شجاعت

افواجِ پاکستان کے جانبازوں نے ہمیشہ اپنے لہو سے ایسی تاریخ لکھی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہی بہادر سپوتوں میں ایک درخشندہ نام ہے میجر طفیل محمد شہید (نشانِ حیدر) کا، جنہوں نے 1958 میں مشرقی پاکستان کے علاقے لکشمی پور میں دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

اس وقت بھارتی فوج نے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے لکشمی پور پر قبضہ جما لیا تھا، تاکہ اسمگلنگ کو تحفظ دیا جا سکے۔ یہ نازک ذمہ داری میجر طفیل کو سونپی گئی جنہوں نے 7 اگست کی رات دشمن پر ایک غیر متوقع سمت سے حملہ کیا، جس نے بھارتی فوج کو حواس باختہ کر دیا۔

حملے کی قیادت کرتے ہوئے میجر طفیل دشمن کی گولیوں کا نشانہ بنے، مگر زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ دستی بموں سے دشمن کی مشین گن خاموش کرا دی، اور دشمن کو لکشمی پور چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ زخموں سے چور ہونے کے باوجود اُن کی آخری سانس تک وطن سے وفا قائم رہی، اور وہ جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے لکشمی پور کو فتح دلا چکے تھے۔

آج میجر طفیل شہید کے 67ویں یومِ شہادت کے موقع پر قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ علماء کرام نے ان کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:

“شہید کبھی مرتے نہیں، ان کا لہو قوموں کی بیداری کی علامت ہوتا ہے۔”

بلاشبہ میجر طفیل محمد شہید وطن کے وہ درخشندہ چراغ ہیں جن کی روشنی آج بھی ہر محبِ وطن کے دل میں زندہ ہے۔

Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.