ایک سال میں 17 پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے بل کیسے منظور ہوئے؟

لاہور – پنجاب میں گزشتہ ایک سال کے دوران پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے قیام کے حوالے سے حیران کن رفتار سے قانون سازی دیکھنے میں آئی ہے۔ سال 2024 سے لے کر جولائی 2025 تک پنجاب اسمبلی نے 17 پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے بل منظور کیے، جن میں سے 14 صرف 2025 کے ابتدائی سات ماہ میں پاس ہوئے۔ ماہرین تعلیم، اپوزیشن اور یہاں تک کہ خود حکومتی حلقے بھی اس عمل پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

پنجاب میں پہلے ہی 160 پبلک سیکٹر یونیورسٹیز اور 109 پرائیویٹ یونیورسٹیز کام کر رہی ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں قانون سازی کے عمل میں غیرمعمولی تیزی اور قواعد و ضوابط میں نرمی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

قوانین میں نرمی، 10 ایکڑ زمین کی شرط ختم
پہلے پرائیویٹ یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے 10 ایکڑ زمین ایک ہی مقام پر رکھنا لازم تھا، مگر اب قوانین میں نرمی کر دی گئی ہے۔ اب اگر کسی کے پاس شہر میں صرف 3 ایکڑ زمین ہے اور باقی زمین کسی اور مقام پر ہے تو بھی چارٹر منظور کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ لیز پر لی گئی زمین پر بھی یونیورسٹی قائم کرنا ممکن بنا دیا گیا ہے۔

منظور شدہ بلز کی تفصیل
2024 میں لاہور لیڈز یونیورسٹی (ترمیمی)، سینٹ ہل یونیورسٹی، اور انسٹی ٹیوٹ آف سدرن پنجاب ملتان (ترمیمی) بل منظور کیے گئے۔ 2025 کے پہلے سات ماہ میں جن پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے بل منظور ہوئے، ان میں شامل ہیں:

اے جی این یونیورسٹی

ایشین یونیورسٹی فار ریسرچ اینڈ ایڈوانسمنٹ مصرت انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی دی ٹائمز انسٹیٹیوٹ ملتان مکبر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، گجرات رائت بہرہ پروفیشنل یونیورسٹی، ہوشیارپور گلوبس یونیورسٹی، کمالیہ وغیرہ

یہ بلز بیشتر صورتوں میں پرائیویٹ ممبرز ڈے پر اسمبلی اجلاس میں پیش ہوئے اور بغیر کسی بڑی بحث کے منظور کر لیے گئے۔

Author

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.