چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت 271ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس میں بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسیز کے حالیہ حملوں میں شہید ہونے والے جوانوں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہمارے شہداء کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی عوام کی حفاظت اور سلامتی پاک فوج کی اولین ترجیح ہے۔
فورم میں بھارت کی جانب سے پاہلگام واقعے کے بعد براہ راست جارحیت میں ناکامی کے بعد پراکسیز کے ذریعے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی۔ عاصم منیر نے کہا کہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان جیسی پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔
چیف آف آرمی اسٹاف نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ سمیت ایران، ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دوروں کی تفصیلات بھی شیئر کیں، جن میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان کے ہمراہ اہم ملاقاتیں کیں اور پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا۔
کانفرنس میں اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور ایران میں حالیہ کشیدگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ خود انحصاری، قومی اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی موجودہ چیلنجز کا مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے بلاجواز الزامات اور بلاک سیاست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “دوطرفہ فوجی کشیدگی میں تیسرے فریق کو شامل کرنا بھارت کی ایک ناکام حکمتِ عملی اور ہندوتوا پر مبنی انتہاپسند سوچ کو پھیلانے کی کوشش ہے، جس سے خطے کے ممالک بدظن ہو رہے ہیں۔”
فورم کو پاک فوج کی جانب سے جدید خطرات اور بدلتی ہوئی جنگی نوعیت کے مطابق تیز رفتار تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی قیادت کو تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر سراہا۔
اختتامی کلمات میں چیف آف آرمی اسٹاف نے پاکستان آرمی کی مکمل آپریشنل تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔