پاکستان میں اسٹارلنک انٹرنیٹ! مگر عام شہری کی پہنچ سے باہر؟

پاکستان میں اسٹارلنک انٹرنیٹ! مگر عام شہری کی پہنچ سے باہر؟

پاکستان میں اسٹارلنک انٹرنیٹ! مگر عام شہری کی پہنچ سے باہر؟

وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسٹارلنک کو پاکستان میں عارضی این او سی جاری کر دیا گیا ہے، جس سے کنیکٹیویٹی میں بہتری کی امید ہے۔ تاہم، اس کی مکمل منظوری کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے مزید مراحل باقی ہیں۔

پی ٹی اے کے ذرائع کے مطابق، اسٹارلنک کو حتمی لائسنس ملنے میں 2 سے 4 ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ سروسز کے آغاز میں 4 سے 6 ماہ درکار ہوں گے۔ اس دوران، سامان کی درآمد، آرتھ اسٹیشنز کی تنصیب، اور ضروری ٹیسٹنگ کے مراحل مکمل کیے جائیں گے۔

اسٹارلنک کی قیمت کمپنی خود طے کرے گی، تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس کی ممکنہ لاگت 100 ڈالر ماہانہ ہوسکتی ہے، جبکہ آغاز میں ڈش اور راؤٹر سمیت 500 ڈالر تک خرچ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قیمت عام پاکستانی شہریوں کے لیے زیادہ ہوگی اور بنیادی طور پر متمول طبقے یا دور دراز علاقوں کے صارفین کے لیے موزوں رہے گی۔

آئی ٹی ماہرین کے مطابق، اسٹارلنک کے آنے سے انٹرنیٹ کی دستیابی میں بہتری آئے گی لیکن اس سے سینسرشپ جیسے مسائل حل ہونے کی امید غیر حقیقی ہے۔ مزید برآں، اس کی مہنگی قیمت عام صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں پہلے سے موجود انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے میں یہ زیادہ مہنگا آپشن ہوگا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں