مستونگ: لاپتہ میر ظہور احمد بلوچ کی بازیابی کے لیے قومی شاہراہ بلاک
مستونگ میں سمالانی بلوچ قومی تحریک کے مرکزی چیئرمین اور قبائلی رہنما نواب میر احمد سمالانی کی سربراہی میں لاپتہ میر ظہور احمد بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ نواب ہوٹل مستونگ کے مقام پر کوئٹہ-کراچی آر سی ڈی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ ظہور احمد سمالانی کو بازیاب نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا اور قومی شاہراہ بلاک رہے گی۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں لواحقین اور قبائلی عمائدین شریک ہیں، جو حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
عوام سے سفر میں احتیاط کی اپیل
دھرنے کے باعث کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے، اور مسافروں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ کسی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔
مظاہرین نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میر ظہور احمد بلوچ کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا، احتجاج جاری رہے گا۔انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم، ابھی تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔
یہ احتجاج مستونگ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے جاری تحریک کا حصہ ہے، جس پر عوامی اور سماجی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے۔