نارووال: سیلاب متاثرین کی مشکلات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں کیونکہ ریلیف کیمپوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ متاثرین جانوروں سمیت کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔
حاجیوالا کے رہائشی محمد رمضان اپنے اہل خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کے دوران تیز بہاؤ میں ڈوب گئے۔ مقامی افراد نے ان کی لاش پانی سے نکالی جبکہ ریسکیو 1122 نے ان کی موت کی تصدیق کی۔
نالہ ڈیک کا سیلابی پانی نارووال شہر میں داخل ہوگیا جس سے گھروں میں دو سے تین فٹ پانی بھر گیا۔ عباس نگر، کاکڑ کالونی، سیٹلائٹ ٹاؤن، ریلوے کالونی، صدیقی کالونی، کچے کوٹھی، گنج حسین آباد، گرلز کالج روڈ، مکی مسجد روڈ اور عیدگاہ روڈ سمیت متعدد علاقے زیرِ آب آگئے۔ قریبی دیہات بھی سیلاب کی زد میں ہیں جبکہ دیگر اضلاع کی ٹیمیں ریسکیو آپریشن کے لیے نارووال پہنچ گئی ہیں۔
نالہ ڈیک، بران اور بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دو روز قبل تحصیل ظفر وال کے گاؤں لہری اور سکروڑ میں ڈیک کا بند ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد سیلابی پانی نارووال شہر میں داخل ہوا۔ اگرچہ دریاؤں اور نالوں میں پانی اتر رہا ہے، لیکن شہر میں داخل ہونے والا پانی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ریلوے ٹریک بھی ڈوب گیا ہے اور نارووال-سیالکوٹ کراسنگ پر تین فٹ پانی گزر رہا ہے۔ نارووال ریلوے اسٹیشن کا ٹریک بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔
شکرگڑھ روڈ پر کاکے کی موڑ سے منظورپورہ تک تقریباً 12 فٹ اونچی جگہ پر درجنوں متاثرین نے اپنے عارضی کیمپ لگا رکھے ہیں۔
متاثرینِ سیلاب محمد امین اور عبدالرازق نے بتایا کہ وہ تین روز سے کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان اور جانور پانی میں پھنسے ہوئے ہیں مگر انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی انہیں ریلیف کیمپوں کے بارے میں اطلاع دی گئی۔
ان کے مطابق: “انتظامیہ کے افسران روزانہ بھاری گاڑیوں میں نارووال-شکرگڑھ روڈ سے گزرتے ہیں لیکن کبھی نہیں رکتے اور نہ ہی ہمیں کیمپ جانے کا کہتے ہیں۔”
متاثرین نے شکایت کی کہ جانوروں کے لیے چارہ نہیں ہے اور ان کی گائے، بھینسیں اور بکریاں تین دن سے بھوکی ہیں۔
محمد اسلم اور کاشف محمود صدیقی نے بتایا کہ وہ ضلع انتظامیہ کے قائم کردہ ریلیف کیمپ بھی گئے مگر وہاں کھانے پینے، صاف پانی اور رہائش کا کوئی انتظام نہیں تھا، صرف انسانوں اور جانوروں کے لیے دوا دستیاب تھی۔
سیلاب متاثرین نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے صورتحال کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ نارووال میں متاثرین کے لیے 38 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اب تک 2 ہزار 311 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے جبکہ 16 ٹیمیں مسلسل مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر سید حسن رضا نے کہا کہ ضلع نارووال کی 50 سے 75 فیصد آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق 35 کشتیاں متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں اور پی ڈی ایم اے سے موصول ہونے والے فوڈ پیکجز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔