کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) حکومت بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے اعلامیے کے مطابق صوبے میں دفعہ 144 مزید 15 روز کے لیے نافذ العمل ہوگی۔ اس دوران اسلحے کی نمائش، ڈبل سواری اور پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومتی اقدام کے تحت سیاسی و غیر سیاسی جلسے، جلوس اور احتجاجی مظاہرے بھی منعقد نہیں کیے جا سکیں گے
اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے دوران شہریوں کو چہرہ ڈھانپنے اور ماسک پہننے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ صوبے بھر میں کالے شیشوں والی گاڑیوں کے استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے محکمہ داخلہ بلوچستان نے خبردار کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس اقدام کا مقصد صوبے میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت کے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ بعض نے اسے امن و امان کے قیام کے لیے ناگزیر قرار دیا، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔