جھنگ شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے ریلوے لائن میں شگاف ڈال دیا گیا
اسلام آباد/لاہور (نیوز ڈیسک) — پنجاب کے تینوں بڑے دریاؤں میں شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈالا گیا۔ چیئرمین پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے اب تک کم ازکم 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر اموات ڈوبنے سے ہوئیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نے کہا کہ جھنگ شہر کو بچانے کے لیے رواز برج پر شگاف ڈالا گیا اور شہریوں کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔ فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف سیکریٹری پنجاب نے متاثرہ اضلاع میں کلینک آن ویلز بھیجنے اور تعلیمی ادارے ایک ہفتے تک بند رکھنے پر غور کرنے کا اعلان کیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ اور بلوکی ہیڈورکس پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے چناب پر مرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقام پر پانی کی سطح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دریائے ستلج پر بھی گنڈا سنگھ والا کے مقام پر شدید سیلاب ہے۔
سیلاب سے پنجاب کے متعدد اضلاع میں سینکڑوں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ سیالکوٹ میں 16 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوئے جن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ لاہور میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے کئی بلاکس میں پانی داخل ہوگیا ہے جبکہ متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دریائے سندھ میں بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد ساڑھے تین لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ سیہون میں سطحِ آب 4 لاکھ کیوسک تک جا پہنچی ہے۔ کشمور اور گھوٹکی کے کچے کے علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں جہاں سینکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ اور 50 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
محکمہ انہار کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس سے کچے کے مزید علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔