بھارتی قبضے کے 77 سال مکمل، پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غیرقانونی قبضے کے 77 سال مکمل ہونے پر آج پاکستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں یومِ سیاہ بھرپور قومی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
اس دن کی مناسبت سے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلیاں، واکس، سیمینارز اور تصویری نمائشوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفترِ خارجہ سے ڈی چوک تک مرکزی یکجہتی واک نکالی جا رہی ہے، جس میں مختلف وزارتوں کے افسران، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندے اور شہری بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ شاہراہِ دستور، پارلیمنٹ ہاؤس اور ڈی چوک کے اطراف “کشمیر بنے گا پاکستان” کے بینرز اور پوسٹرز آویزاں ہیں۔
وفاقی حکومت کی زیرِ نگرانی کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی خصوصی مہم بھی جاری ہے، جس کے انتظامات وزارتِ اطلاعات، وزارتِ خارجہ، پی ٹی اے اور اسلام آباد پولیس کے تعاون سے کیے گئے ہیں۔
ملک کے دیگر بڑے شہروں—کراچی، لاہور، پشاور، مظفرآباد اور گلگت—میں بھی یومِ سیاہ کے سلسلے میں احتجاجی واکس اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ صبح 10 بجے کشمیری شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو اُن کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
تعلیمی اداروں میں بھی یومِ سیاہ کی مناسبت سے خصوصی تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں جن میں طلبہ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے آزادی کے عزم کو دہرا رہے ہیں۔
آج کا دن پوری قوم کے لیے کشمیری عوام سے ایمان، عزم اور یکجہتی کے رشتے کی تجدید کا دن قرار دیا جا رہا ہے۔
یومِ سیاہ کشمیر — چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا خصوصی پیغام
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 27 اکتوبر تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ یہ دن مظلوم کشمیریوں پر ظلم و جبر کی ایک طویل داستان کے آغاز کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1947ء میں بھارتی افواج کا سری نگر میں داخل ہونا بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اس غیرقانونی قبضے کے بعد کشمیری عوام نے اپنے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں اور ظلم و جبر کے باوجود ان کا عزم و حوصلہ آج بھی قائم ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی نہ صرف کشمیریوں کی شناخت اور خودمختاری پر حملہ تھی بلکہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا کہ کشمیری عوام نے بھارت کے تمام غیرقانونی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور پاکستان ان کے حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ تحریکِ آزادی کشمیر کے شہداء اور رہنماؤں کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ مسئلہ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس کا منصفانہ حل خطے کے پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطین، غزہ اور مقبوضہ کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے موثر اور عملی کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ
“پاکستان ہر سطح پر کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے حل تک کشمیری بھائیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔”