پاکستان میں 4 سالوں میں 7,500 خواتین قتل، سزا کی شرح صرف 2فیصد

پاکستان میں 4 سالوں میں 7,500 خواتین قتل، سزا کی شرح صرف 2فیصد

گزشتہ چار سالوں کے دوران پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد نے انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس مدت میں 7,500 سے زائد خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں سے 1,553 خواتین غیرت کے نام پر سفاکی سے مار دی گئیں۔ یہ اعداد و شمار ملک میں خواتین کی سلامتی، سماجی رویوں اور کمزور قانونی نظام کی سنگین تصویر پیش کرتے ہیں۔

حیران کن اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قاتلوں کو سزا ملنے کی مجموعی شرح صرف 2 فیصد رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے عدالتی و تفتیشی نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ بیشتر مقدمات میں یا تو ثبوت جمع نہیں کیے جاتے، یا گواہ تعاون نہیں کرتے، یا پھر طاقتور افراد دباؤ ڈال کر انصاف کا راستہ روک دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اکثر خاندان ہی معافیاں اور سمجھوتے کرکے قاتل کو بچا لیتے ہیں، جس سے سزا کا امکان مزید کم ہو جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موثر قانون سازی کے باوجود نفاذ کمزور ہے، اور تفتیش کے جدید طریقوں کا فقدان انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سول سوسائٹی اور خواتین کے حقوق کے کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ:

غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں سمجھوتے کی اجازت مکمل طور پر ختم کی جائے

پولیس اور تفتیشی اداروں کو جدید تربیت فراہم کی جائے

عدالتوں میں خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز کا تیز رفتار ٹرائل یقینی بنایا جائے

متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور قانونی معاونت دی جائے

ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خواتین کے خلاف تشدد مزید بڑھے گا اور انصاف کا نظام اپنا اعتماد کھوتا چلا جائے گا۔

Author

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں…
Leave A Reply

Your email address will not be published.