گزشتہ شب سے مسلسل موسلا دھار بارش نے سیالکوٹ شہر کو ڈبو دیا ہے۔ شہر کی گلیاں اور بازار ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔
بارش کے باعث شہر بھر میں شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، اور بارش کا پانی گھروں، دکانوں اور دفاتر میں داخل ہو گیا، جس سے کاروباری سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، اور شہر و گردونواح میں زندگی مفلوج ہو گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 228 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی کے باعث پورا شہر ایک ندی نالے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے سبب دریائے چناب میں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ ریڈار سسٹم کے مطابق دریائے چناب کے بالائی علاقوں میں شدید اور انتہائی موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ شہری دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا رحم و کرم فرمائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی اقدامات، فوج طلب
لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ – وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے کے چھ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر فوج طلب کر لی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ پنجاب کے چھ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی، اور بروقت فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی امداد اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچاؤ کے لیے کیا گیا۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے چھ اضلاع میں فوج کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے۔ ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج کو طلب کیا جا رہا ہے، اور ان اضلاع میں فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے طے کی جائے گی۔
سیلابی علاقوں میں ضرورت کے مطابق آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت پنجاب کے تمام متعلقہ ادارے سیلاب کی صورتحال کو 24/7 مانیٹر کر رہے ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات بروقت اٹھائے جا رہے ہیں۔