فلسطین میں حالات ابھی بھی نہایت سنگین ہیں،پاکستان

 اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں سیاسی پیش رفت کے باوجود صورتحال انتہائی سنگین ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں غزہ میں ہونے والی تباہ کن جنگ نے 70 ہزار سے زائد افراد شہید کیے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ سماجی و معاشی ڈھانچہ شدید نقصان کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے وعدے اکثر نظرانداز کیے گئے اور احتساب کی پکار کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران دو اہم پیش رفتیں ہوئی ہیں: جولائی میں فلسطینی مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس، جس کے بعد 12 ستمبر کو نیویارک اعلامیہ منظور ہوا۔ اس اعلامیے میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح اور ناقابل واپسی اقدامات کی بات کی گئی۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس میں خطے اور عالمی شراکت داروں نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے، انسانی تباہی کے ازالے، اور فلسطینی حق خودارادیت کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی راستہ بنانے پر اتفاق کیا۔ اسی عمل کے نتیجے میں قرارداد 2803 بھی منظور ہوئی، جس میں پاکستان نے صدر ٹرمپ کی کوششوں اور پرامن اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں شہری اور بچے شہید و زخمی ہو رہے ہیں اور اعلان شدہ امن نے ابھی تک زمینی سطح پر مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا۔ مغربی کنارے میں بھی صورتحال سنگین ہے، جہاں آبادکاروں اور فوجی کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور کئی دیہات بے گھر ہو گئے۔

عاصم افتخار نے سفارش کی کہ قرارداد 2803 پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ فلسطینی قیادت کے تحت حکمرانی، تعمیر نو اور ادارہ جاتی صلاحیتیں مضبوط ہوں اور فلسطینی عوام مستقل خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔

Author

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں…
Leave A Reply

Your email address will not be published.