ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے آدھی مدت معاہدے کی حقیقت

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے آدھی مدت معاہدے کی حقیقت

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام کے دوران مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ایک آدھی مدت کے اقتدار کے معاہدے پر بات ہوئی تھی۔ تاہم، انہوں نے خود اس مذاکرات میں حصہ نہیں لیا بلکہ انہیں بتایا گیا کہ دونوں جماعتوں نے وزیراعظم، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی مدت نصف نصف کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ گیلانی نے کہا کہ یہ اصول اب بھی پارٹی قیادت کے درمیان موجود ہیں اور یہ مکمل طور پر اندرونی معاملہ ہے۔

اس دعوے کی تصدیق کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے علاوہ سیاسی تجزیہ کاروں سے بھی بات کی گئی۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان قائرہ نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد اتحادی حکومت کے قیام سے قبل مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ موجود تھا اور اس کی کاپی میڈیا کے پاس بھی موجود ہے۔

 

تاہم، تحریری معاہدے میں وزیراعظم کی تبدیلی یا پانچ سال کی مدت کو 2.5 + 2.5 سال میں تقسیم کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ قائرہ نے کہا کہ اس وقت یہ تجویز زیر بحث ضرور آئی تھی کہ پہلے 2.5 سال شہباز شریف اور باقی 2.5 سال بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم ہوں، لیکن یہ کبھی تحریری شکل میں نہیں آئی اور اس پر سنجیدہ غور بھی نہیں کیا گیا۔

سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا کہ انہیں حکومت کے قیام کے وقت ایسا کوئی فارمولا معلوم نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایسا معاہدہ ہوا تو کیا بلاول وزیراعظم ہوں گے اور اس دوران آصف زرداری صدر، بلوچستان کا وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کا اور یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ ہی رہیں گے؟ عباسی کا کہنا تھا کہ اتنا اہم معاہدہ چھپانا اور میڈیا یا سینئر صحافیوں سے خفیہ رکھنا بعید از امکان ہے۔

تجزیہ کار احمد ولید نے کہا کہ اگر واقعی دونوں جماعتوں کے درمیان آدھی مدت کے اقتدار کا معاہدہ ہوا ہوتا، تو اب تک اس کی تیاری نظر آنا شروع ہو جاتی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی امکان نہیں لگتا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو اب قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہے اور پیپلز پارٹی کے لیے اپنی بات منوانا مشکل ہوگا۔

احمد ولید نے مزید کہا کہ ملک میں ہائبرڈ نظام چل رہا ہے اور اس پر اثر رکھنے والی طاقتیں بھی کسی پاور شیئرنگ فارمولے پر رائے رکھیں گی، جو ابھی سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اب سنبھلی ہے اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری آ رہی ہے، اس لیے حکومت کی تبدیلی یا پاور شیئرنگ کے فارمولے پر عمل کرنا فی الحال غیر ممکن لگتا ہے۔

Author

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں…
Leave A Reply

Your email address will not be published.