کراچی میں حالیہ موسلا دھار بارشوں نے شہر کو ایک بار پھر مفلوج کر دیا ہے۔ سڑکیں اور بازار زیرِ آب آنے سے شہریوں کے ساتھ ساتھ تاجروں کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
تاجروں کے مطابق اولڈ سٹی ایریا، فرنیچر مارکیٹوں، گوداموں اور کارخانوں میں پانی داخل ہونے سے سامان اور مشینری تباہ ہوگئی۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق نقصانات کا حجم 15 ارب روپے سے زائد ہے۔
آل کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے بتایا کہ بارش کے باعث ڈھائی دن کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں جس سے ساڑھے 9 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ دکانوں اور گوداموں میں پانی بھرنے سے مزید 5 سے 6 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ کپڑوں کی دکانوں، گارڈن، لیاقت آباد، نرسری اور فرنیچر مارکیٹ سمیت کئی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ بارشوں نے شہر بھر میں تباہی مچا دی ہے، کراچی کو معاشی حب ہونے کے باوجود مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بوسیدہ انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے کوئی سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید بلوانی نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر میں فوری طور پر ہنگامی حالت نافذ کی جائے تاکہ ادارے فعال ہوں اور متاثرہ تاجروں کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کو فوری معاوضہ دیا جائے اور صوبائی ٹیکسز فی الحال منجمد کر دیے جائیں۔
صدر آل سٹی تاجر اتحاد شرجیل گوپلانی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پمپنگ اسٹیشنز کو فعال نہ رکھنے سے نقصان میں مزید اضافہ ہوا۔ ڈیزل دستیاب ہونے کے باوجود تین میں سے دو بڑے پمپنگ اسٹیشن بند رکھے گئے جس سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اور شہری حکومتوں نے فوری اقدامات نہ کیے تو آئندہ بارشیں کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو مزید مفلوج کر دیں گی۔