ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کا خاتمہ، امریکہ اور قطر کا کلیدی کردار
واشنگٹن/دوحہ:ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد بالآخر جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے پیچھے امریکہ اور قطر کی اہم سفارتی کوششیں کارفرما رہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اور مشرق وسطیٰ کے لیے صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے ایرانی قیادت سے براہ راست اور بالواسطہ رابطے کیے۔ ان رابطوں کا مقصد دونوں فریقین کو تصادم سے ہٹانا اور امن کی جانب لے جانا تھا۔
امریکی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے واضح کر دیا تھا کہ اگر ایران مزید حملے نہیں کرتا تو وہ جنگ بندی پر تیار ہے۔ ایران کی جانب سے بھی امریکہ کو یہ عندیہ دیا گیا کہ وہ اب مزید کوئی حملہ نہیں کرے گا، جس کے بعد بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہو گئی۔
صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو “دنیا کے لیے ایک شاندار دن” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور امید ہے کہ یہ مستقل امن کی بنیاد بنے گی۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے فون پر گفتگو کر کے تفصیلات طے کیں۔
دوسری جانب قطر کے امیر شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے ایرانی حکام سے براہ راست رابطہ کر کے انہیں جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ اس سے قبل امریکی صدر نے امیر قطر کو صورتحال سے آگاہ کر کے درخواست کی تھی کہ وہ ایران کو رضامند کریں۔
رائٹرز کے مطابق یہ سفارتی کوششیں پس پردہ کئی دنوں سے جاری تھیں اور اب ایک دیرپا امن کی امید روشن ہو گئی ہے۔