اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وزیرِاعظم نے کابینہ کے ان ارکان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کی۔
اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر یوریا کھاد کی قیمتوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسانوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے ان کی لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیرِماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِپیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِقومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، مشیر محمد علی اور معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی تحلیل کی سمری پیش کی گئی جسے کابینہ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ 31 جولائی سے یوٹیلٹی اسٹورز کا آپریشن ختم کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحلیل کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ملازمین کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔
کابینہ نے ملکی صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور نئی صنعتوں کے قیام کے لیے خصوصی اقتصادی زونز قانون 2012 میں ترمیم کی اصولی منظوری بھی دی۔ نئی ترامیم کے تحت سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو زیادہ کاروبار دوست سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جس سے برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2023-24 پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری بھی دی۔ علاوہ ازیں، کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے 19 اگست 2025 اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 18 اگست 2025 کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔