خودمختاری پر حملہ برداشت نہیں، ہر قیمت پر دفاع کرینگے،ایرانی وزیر خارجہ
تہران / واشنگٹن – ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دسویں روز امریکا براہ راست جنگی کارروائی میں شامل ہوگیا، جس کے بعد خطے میں تناؤ شدید ہو گیا ہے۔
امریکی بی-2 بمبار طیاروں نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بعد امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام “تباہ” کر دیا گیا ہے۔
فردو کی جوہری تنصیب جو زمین سے 300 فٹ نیچے واقع ہے، اسرائیل کے لیے ناقابل رسائی تھی اور اسرائیلی حکام کئی روز سے امریکی مداخلت کے منتظر تھے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور ایئر چیف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ان حملوں میں کسی ایرانی شہری یا فوجی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، اور ایرانی ریڈار امریکی جہازوں کا پتہ لگانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے لیے تھی۔
ایرانی ردعمل بھی واضح اور سخت تھا۔ وزیر خارجہ عباس عراغچی نے کہا کہ “ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے جو بھی ضروری ہوا، کرے گا”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مشاورت کے لیے ماسکو روانہ ہو رہے ہیں تاکہ اس نازک صورتحال میں مشترکہ حکمت عملی طے کی جا سکے۔
استنبول میں نیوز کانفرنس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے اور دونوں ممالک مسلسل رابطے میں ہیں۔
ادھر ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار مجید موسائیبی کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ موسائیبی پر الزام تھا کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس معلومات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔